25 جون 2026 - 05:36
سیکریٹری جنرل حزب اللہ شیخ نعیم قاسم کی تقریر کے اہم نکات

شیخ نعیم قاسم نے کہا: ہم 2 مارچ کو واضح اور قطعی فیصلے کے ساتھ میدان میں آئے، کیونکہ یہ مناسب وقت تھا، ہم ایران کے سہارے میدان مین اترے اور اپنی طاقت میں ایک  طاقت کا اضافہ کیا جو "کیاست" سے عبارت ہے۔ ہم نے ایران پر اعتماد کیا اور ایران اس اعتماد سے بطور احسن عہدہ برآ ہؤا؛ چنانچہ ہم ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں ایران دنیا بھر کے شریفوں میں شریف ترین ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، حزب اللہ کے بہادر اور حکیم قائد علامہ شیخ نعیم قاسم نے محرم کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

- لبنان میں "اسرائیلی پروجیکٹ ناکام ہو چکا ہے، صہیونی ریاست کسی صورت میں اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکے گا۔

- ہم طائف معاہدے اور لبنانی آئین کی حمایت کرتے ہیں۔

- حزب اللہ کا تجربہ دوسروں کے ساتھ تعامل کا کامیاب ترین ترجمہ ہے۔

- لبنان میں حب الوطنی کے کچھ دعویدار اپنے داخلی حریفوں کو منظر عام سے ہٹانے کے لئے قتل عام کے مرتکب ہوئے ہیں۔

- ہم تاریخ لبنان میں "مقاومت، فوج، قوم اور مستقبل" کے نئے مرحلے میں ہیں جس کو کہتے ہیں: اسرائیلی پروجیکٹ کی شکست کا مرحلہ۔"

- حالیہ تین برسوں میں صہیونیوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود، اسرائیل پروجیکٹ ناکام ہو گیا؛ حزب اللہ کو سیاسی، ثقافتی، عسکری، سماجی اور انسانی لحاظ سے منظر عام سے ہٹانے اور "عظیم تر اسرائیل" کے خاتمے کا منصوبہ۔

- اگر میدان میں مقاومت اور شہادت طلب اور افسانوی نوجوان نہ ہوتے، اگر رہبر شہید امام خامنہ ای اور شہید سید حسن نصر اللہ اور دوسرے شہید قائدین اور شہداء، زخمیوں اور اسیروں کے عظیم الشان مجاہد خاندان نہ ہوتے تو ہم اسرائیلی پروجیکٹ کو ناکام نہ بنا پاتے۔

- اسرائیل میدان جنگ میں نہیں ٹھک سکتا اور اہداف کو حاصل نہیں کر سکتا/

- اگر میدان جنگ ٹوٹ جاتا تو اسرائیل اپنے پروجیکٹ کی کامیابی کی طرف ایک بڑا قدم اٹھا پاتا۔

- ہمیں یقین ہے کہ سرزمین کی آزادی، خودمختاری، قومی اور ارضی سالمیت کی واحد ضمانت قبضے کے مقابلے میں مزآحمت ہے۔

- ہر فرد کو مزاحمت سے کام لینا چاہئے، اور ضروری ہے کہ فوج، عوام اور  مجاہدین مقاومت و مزاحمت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

- امریکہ نے 27 نومبر کے سمجھوتے کی ضمانت دینے سے پہلی تہی کی اور کہا کہ وہ ضامن نہیں ہے اور واضح ہؤا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جارحیت جاری رکھنے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

- امریکہ ضامن نہيں ہے، اور ہماری اپنے طاقت کے سوا کوئی بھی ضامن نہیں ہے اور ہماری طاقت ایمان، عزم اور صلاحیت ہے۔

- ہمارا 15 ماہہ صبر، پسپائی نہیں بلکہ میدان کا حصہ تھا۔

- ہم 2 مارچ کو واضح اور قطعی فیصلے کے ساتھ میدان میں آئے، کیونکہ یہ مناسب وقت تھا، ہم ایران کے سہارے میدان مین اترے اور اپنی طاقت میں ایک  طاقت کا اضافہ کیا جو "کیاست" سے عبارت ہے۔ ہم نے ایران پر اعتماد کیا اور ایران اس اعتماد سے بطور احسن عہدہ برآ ہؤا؛ چنانچہ ہم ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں ایران دنیا بھر کے شریفوں میں شریف ترین ہے۔

- میدان میں اترنے کے لئے وقت کا تعین بہت اہم اور مناسب تھا۔ اب اسلام آباد مذآکرات کے تحت جنگ بندی کا مرحلہ ہے اور صہیونیوں کو ایک ٹائم ٹیبل کے تحت لبنان سے پسپا ہونا چاہئے۔

- اسرائیل کے پاس پسپائی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور زمینی، بحری اور فضائی جارحیتوں کو رک جانا چاہئے اور لبنانی افواج کو جنوبی لبنان میں تعینات ہونا چاہئے۔

- میں لبنانی حکومت سے کہتا ہوں کہ مقاومت اور اس کی طاقت سے فائدہ اٹھاؤ، ہم تیار ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha